Saturday, 25 July 2020

Once upon a time ۔.....

ایک روز شوہر نے پرسکون ماحول میں اپنی بیوی سے کہا : بہت دن گزر گئے ہیں میں نے اپنے گھر والوں بہن بھائیوں اور ان کے بچوں سے ملاقات نہیں کی ہے۔ میں ان سب کو گھر پر جمع ہونے کی دعوت دے رہا ہوں اس لیے براہ مہربانی تم کل دوپہر اچھا سا کھانا تیار کر لینا۔

بیوی نے گول مول انداز سے کہا : ان شاء اللہ خیر کا معاملہ ہو گا۔

شوہر بولا : تو پھر میں اپنے گھر والوں کو دعوت دے دوں گا۔

اگلی صبح شوہر اپنے کام پر چلا گیا اور دوپہر ایک بجے گهر واپس آیا۔ اس نے بیوی سے پوچھا :

کیا تم نے کھانا تیار کر لیا ؟ میرے گھر والے ایک گھنٹے بعد آ جائیں گے !

بیوی نے کہا : نہیں میں نے ابھی نہیں پکایا کیوں کہ تمہارے گھر والے کوئی انجان لوگ تو ہیں نہیں لہذا جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ ہی کھا لیں گے۔

شوہر بولا : اللہ تم کو ہدایت دے ... تم نے مجھے کل ہی کیوں نہ بتایا کہ کھانا نہیں تیار کرو گی ، وہ لوگ ایک گھنٹے بعد پہنچ جائیں گے پھر میں کیا کروں گا۔

بیوی نے کہا : ان کو فون کر کے معذرت کر لو ۔۔۔ اس میں ایسی کیا بات ہے وہ لوگ کوئی غیر تو نہیں آخر تمہارے گھر والے ہی تو ہیں۔

شوہر ناراض ہو کر غصے میں گھر سے نکل گیا۔

کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بیوی نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کے اپنے گھر والے ، بہن بھائی اور ان کے بچے گھر میں داخل ہو رہے ہیں !

بیوی کے باپ نے پوچھا : تمہار شوہر کہاں ہے ؟

وہ بولی : کچھ دیر پہلے ہی باہر نکلے ہیں۔

باپ نے بیٹی سے کہا : تمہارے شوہر نے گزشتہ روز فون پر ہمیں آج دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دعوت دے کر خود گھر سے چلا جائے !

یہ بات سُن کر بیوی پر تو گویا بجلی گر گئی۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ ملنے شروع کر دیے کیوں کہ گھر میں موجود کھانا اس کے اپنے گھر والوں کے لیے کسی طور لائق نہ تھا البتہ یقینا اس کے شوہر کے گھر والوں کے لائق تھا۔

اس نے اپنے شوہر کو فون کیا اور پوچھا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ دوپہر کے کھانے پر میرے گھر والوں کو دعوت دی ہے۔

شوہر بولا : میرے گھر والے ہوں یا تمہارے گھر والے ۔۔۔ فرق کیا پڑتا ہے۔

بیوی نے کہا : میں منت کر رہی ہوں کہ باہر سے کھانے کے لیے کوئی تیار چیز لے کر آجاؤ ، گھر میں کچھ نہیں ہے۔

شوہر بولا : میں اس وقت گھر سے کافی دُور ہوں اور ویسے بھی یہ تمہارے گھر والے ہی تو ہیں کوئی غیر یا انجان تو نہیں۔ ان کو گھر میں موجود کھانا ہی کھلا دو جیسا کہ تم میرے گھر والوں کو کھلانا چاہتی تھیں.. "تا کہ یہ تمہارے لیے ایک سبق بن جائے جس کے ذریعے تم میرے گھر والوں کا احترام سیکھ لو" !.

لوگوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم خود ان کی طرف سے اپنے ساتھ معاملہ پسند کرتے ہو.......
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو کمنٹس میں ضرور بتانا شکریہ ۔.........۔

Wednesday, 22 July 2020

بستیاں کیوں ویران ہوتی ہے۔

طوطی اور طوطے کا گزر ایک بستی سے ہوا،انہوں نے دیکھا کے ساری بستی ویران پڑی ہے۔طوطی نے طوطے سے پوچھا، یہ بستی کیوں ویران پڑی ہے۔ طوطے نے جواب دیا، لگتا ہے یہاں سے اُلٙو گزرا ہے، عین اس کے وقت اُلٙو بھی گزر رہا تھا،اس نے طوطے کی بات سنی۔اولو نے طوطے سے کہا،لگتا ہے آپ اس علاقے میں مسافر ہے۔ آج رات تم دونوں میرے ساتھ ٹھہر جاؤ،
اور مجھے مہمان نوازی کا موقع دو۔ طوطے کے جوڑے نے اُلو کی محبت بھری دعوت سے انکار نہ کر سکے۔ اور انہوں نے اْلو کی دعوت قبول کرلی۔ کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی۔ تو اْلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ۔ تم کہاں جا رہی ہو ۔ طوطی پرشان ہو کر بولی یہ کوئی پوچنے کی بات ہے ۔ میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں۔ الو یہ سن کر ہنسا۔ اور کہا ۔ یہ تم کیا کہ رہی ہوتم تو میری بیوی ہو.۔ اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی۔ دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تواْلو نے طوطے کے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا۔۔’’ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔۔ قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ہوگا۔۔ اْلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ ،قاضی نے دلائل کی روشنی میں اْلو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کردی۔ طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اْلو نے اسے آواز دی ۔ ’’بھائی اکیلئے کہاں جاتے ہواپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاؤ‘‘طوطے نے حیرانی سے اْلو کی طرف دیکھا اور بولا ’’اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو۔ یہ اب میری بیوی کہاں ہے ۔ عدالت نے تو اسے تمہاری بیوی قرار دے دیا ہے‘‘ اْلو نے طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا۔ نہیں دوست طوطی میری نہیں تمہاری ہی بیوی ہے۔ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے۔ بستیاں تب 
ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے۔

Wednesday, 12 February 2020

عوام کو ریلیف مل گیا


پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے مہنگائی سے تنگ عوام کو ریلیف دینے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے                                             ۔
منگل کو وفاقی کابینہ نے جس پیکیج کی منظوری دی اس کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز پر گندم، چینی ، چاول، دالوں، اور گھی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے آئندہ پانچ ماہ تک دو ارب روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔
    یوٹیلٹی سٹورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوام کو آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 800 رپے، چینی 70 روپے کلو، گھی 175 روپے فی کلو فراہم کیا جائے جبکہ چاول اور دالوں کی قیمتوں میں 15 سے 20 روپے تک کمی       کو یقینی بنایا جائے                                                                                                         ۔

سبسڈی کیوں اور کہاں دی جاتی ہے                                                            ؟         

ماہرین کے مطابق سبسڈی مالی یا غیر مالی مد میں دی جانے والی وہ رعایت ہوتی ہے جس کا مقصد معاشی شعبے، اداروں، تجارت اور شہریوں کی معاشی اور سماجی پالسیوں کو استحکام دینا ہوتا ہے۔

یہ سبسڈی پیداواری اداروں اور صارفین دونوں کو ہی دی جاتی ہیں۔
ماہر معاشیات اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی بہت بڑھ چکی ہو اور اس سے نچلا طبقہ متاثر ہو رہا ہو تو اس صورتحال میں حکومتیں سبسڈی دے کر عوام کی مشکلات میں کمی لاتی ہیں تاکہ محروم طبقے کو ریلیف دیا جا سکے۔
اس کا طریقہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ حکومت ضروری استعمال کی اشیا کو مارکیٹ سے مہنگے داموں خرید کر سستی قیمت میں عوام کو فراہم کرتی ہے۔ اس کی مثال یوٹیلیٹی سٹورز کی ہے جہاں عام مارکیٹ سے کم قیمت میں کھانے پینے کی اشیا دستیاب ہوتی ہیں۔

Tuesday, 11 February 2020

حکومت نے کمر توڑ مہنگائی کی کمر توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔


پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائےاطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے کمر توڑ مہنگائی کی کمر توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف دینے کی خاطر اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کو
مستحکم رکھتے ہوئے سبسڈی دی جائے گی۔
یوٹیلیٹی سٹورز پر ریلیف پیکج کے چیدہ چیدہ نکات

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو آئندہ پانچ ماہ کے لیے دو ارب روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
یہ سبسڈی گندم، چینی ، چاول، دالوں، اور گھی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے دی جا رہی ہے۔
یوٹیلیٹسی سٹورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ آٹے کا بیس کلو کا تھیلا 800 رپے، چینی 70 روپے کلو، گھی 175 روپے فی کلو جبکہ چاول اور دالوں کی قیمتوں میں 15 سے 20 روپے تک کمی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا یوٹیلٹی سٹورز کو دیے جانے والے ان دس ارب روپوں کا مقصد یہ ہے کہ یہ یوٹیلیٹی سٹورز اشیاد خودرو نوش کی قیمتوں کے تعین حوالے سے مارکیٹ میں عوام کے لیے ایک مثال بنیں۔

مرحلہ وار سپورٹ پرگرام اور یوتھ سٹورز کا قیام

معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا حکومت غریب اور پسے ہوئے طبقے کا بوجھ بانٹے کے لیے مرحلہ وار سپورٹ پروگرام تربتیب دیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں پانچ اشیاء ضرورت کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے اور مستحکم رکھنے کے لیے لائمہ عمل ترتیب دیا گیا اور دس ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے اشتراک سے حکومت 2000 یوتھ سٹورز کھولنے جا رہی ہے۔

یہ سٹورز کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت کھولے جائیں گے اور انہیں بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف نوجوانوں کو روز گار ملے گا بلکہ مقامی آبادی کے لیے سستی اشیا کی فراہمی کا باعث بنیں گے۔ اس سے چار لاکھ افراد کو براہ راست اور آٹھ لاکھ کو بالواسطہ کاروبار اور روزگار کے مواقع ملیں گے۔

کیش اینڈ کیری اور رعایتی نرخ
فردوس عاشق اعوان نے بتایا حکومت کے بڑے شہروں میں 12 کیش اینڈ کیری سٹورز قائم کرنے جا رہی ہے جو قیمتوں میں استحکام لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

یوٹیلیٹی سٹور ملک بھر میں 50 ہزار تندوروں اور ڈھابوں کو رعایتی مقرر کردہ نرخوں پر اشیا فراہم کرے گا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ راشن کارڈز کا اجرا رمضان سے قبل کر دیا جائے گا۔ ان کارڈز کی مدد سے مستحق افراد کو اشیا ضرورت کی قیمتوں پر 25 سے 30 فیصد تک رعایت ملے گی
افغان سرحد سے ملحق علاقوں میں یوٹیلیٹی سٹورز
یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پانچ فری زون قائم کرے گا جہاں یوٹیلیٹی سٹورز قائم ہوں گے تاکہ افغانستان سے درآمد ہونے والی اشیا کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کھانے پینے کی اشیا کی سمگلنگ کی روک تھام ہو سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے فیصلے کیے ہیں جن میں چینی کی درآمد پر پابندی فی الفور اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ڈیوٹی ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت ایکشن کی ہدایات کی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک یوٹیلیٹی سٹورز کے پیکیج سے 50 لاکھ خاندان فائدہ اٹھا رہے تھے لیکن وزیرِ اعظم کی ہدایت پر اب انہیں بڑھا کر ایک کروڑ خاندان کر دیا گیا ہے۔

Monday, 10 February 2020

عمران خان کو ہوش آگیا


اسلام آباد( آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے ان مشکلات کا ادراک ہے جن کا تنخواہ دار طبقے سمیت مجموعی طور پرعوام کو سامنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں ملک میں جاری مہنگائی اورعام عوام کی مشکلات کے حوالے سے کہا ہے کہ مجھے ان مشکلات کا ادراک ہے جن کا تنخواہ دار طبقے سمیت مجموعی طور پر عوام کو سامنا ہے،     چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ
کچھ بھی ہوجائے، میری حکومت منگل کو کابینہ کے اجلاس میں عوام کے لیے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کی خاطرمختلف اقدامات کا اعلان کرے گی۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اسی اثنائ￿ میں تمام متعلقہ حکومتی ادارے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کی جامع تحقیقات کا آغاز کرچکے ہیں۔ قوم اطمینان رکھے کہ ذمہ داروں کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

مہنگائی میں کمی کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کے لیے 15 ارب روپے کا پیکج لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت ہر حد تک جائے گی۔
 اسلام آباد میں وزیراعظم کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں حکومتی ترجمان اورپارٹی کے سینیئررہنماؤں نے شرکت کی، اجلاس میں ملک کی سیاسی صورت حال اورمہنگائی سے متعلق معاشی ٹیم کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد وشمار پر غور کیا۔  اس موقع پر ملک میں مہنگائی پرقابو پانے کے لیے
اقدامات اورتجاویزپرتفصیلی تبادلہ خیال ہوا


۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کے عوام خصوصاً غریب اورتنخواہ دارطبقہ ہے، حکومت عوام کی تکالیف پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت ہر حد تک جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے مہنگائی میں کمی کے لیے 15 ارب روپے کا پیکج لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت عوام کو یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے گھی، دالیں، چاول اور چینی 25 فیصد تک سستی فراہم کئے جائیں گے۔

آٹا گھی اور دالوں کی قیمتیں کم

 اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غریب کی بہتری کے لئے ہی حکومت میں آئے ہیں اور اگر غریب کا احساس نہیں کر سکتے توحکومت میں رہنے کاحق نہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں کھانے پینے کی اشیاء کی سستے نرخوں فراہمی پر غور کیا گیا اور عوامی ریلیف کے حوالے سے آٹا ،گھی، چینی، چاول اور دالوں کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے کچن میں بنیادی اشیاء ہر حال میں پہنچائیں، جن گھرانوں میں خریدنے کی سکت نہیں، انہیں حکومت راشن دے گی، احساس پروگرام کے تحت انتہائی غریب افراد کو راشن دیں، اگرغریب کا احساس نہیں کر سکتے توحکومت میں رہنے کاحق نہیں، ہم غریب کی بہتری کے لئے ہی حکومت میں آئے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو بنیادی اشیائے ضروریہ کی قمتیں ہر صورت کم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی کریں عوام کو ریلیف دیں، کسی بھی چیز کے پیسے کاٹیں مگر غریب آدمی کو سہولت دیں، عوامی ریلیف کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے کروں گا، قیمتوں میں کمی کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ملک میں مہنگائی سابقہ حکومت کی لوٹ مارکا نتیجہ ہے، ذخیرہ اندوزوں نے بھی معاملات خراب کئے، تاہم آٹابحران میں یوٹیلیٹی اسٹورز نے بہترین کام کیا اور اسی وجہ سے یوٹیلیٹی اسٹورز کی سیل میں800 فیصدتک اضافہ ہوا

  کھیتوں اور باغات سے گھرے ایک پُرسکون گاؤں میں آموس نام کا ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ اگرچہ گاؤں اس کا گھر تھا، لیکن اموس کو شہر کو دیکھنے کی...