Tuesday, 28 January 2020

انٹرنیٹ پر پیسہ کمانا سیکھیں

فری لانسنگ:
انٹرنیٹ کے ذریعے بیرون ممالک سے پیسے کس طرح کماتے ہیں؟



آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود اپنے کلائنٹ کے لیے کام کر سکتے ہیں اور اس کے لیے آپ کو کسی دفتر میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو گھنٹوں کے حساب سے پیسے ملیں گے اور وہ بھی امریکی ڈالرز میں۔

فری لانسنگ  آخر ہےکیا؟

فری لانسنگ سے مراد انٹرنیٹ پر کسی بھی ملک میں موجود ایک فرد یا کمپنی کے لیے کام کے عوض پیسے وصول کرنا ہے۔

دنیا بھر میں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کئی طریقوں سے کما سکتے ہیں۔ اس حوالے سے دنیا میں بہت سے پلیٹ فام موجود ہیں ان میں سے ایک طریقہ ای کامرس یعنی آن لائن کاروبار ہے جبکہ دوسرا طریقہ کونٹینٹ یعنی ایسا مواد لکھنا، تصاویر یا ویڈیوز بنانا جو لوگوں میں مقبولیت حاصل کر سکے۔

اسی طرح فری لانسنگ ایک تیسرا ذریعہ ہے جو جنوبی ایشیاء میں تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ آپ کے پاس ایک اچھا انٹرنیٹ اور لیپ ٹام موجود ہو تو آپ کہیں سے بھی فری لانسنگ کر سکتے ہیں۔‘


ایک زمانہ پہلے  کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا تھا۔ پہلے پڑھائی کے بعد لوگ نوکریاں تلاش کرتے تھے۔ لیکن اب زمانہ بدلتا جا رہا ہے اور لوگوں کو جسمانی طور پر کسی دفتر میں موجود ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ  آپ گھر بیٹھ کر بھی وہ  کام کر سکتے ہیں۔

فری لانسنگ میں کیا کیا کام کیا جا سکتا ہے؟

ویسے تو فری لانسنگ میں آپ ہر ممکن (اور جائز) کام کر سکتے ہیں۔ لیکن آسان طریقہ یہ ہیکہ آپ اس میں ڈیٹا انٹری کریں۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ لکھنے میں اچھے ہیں تو کسی کی ویب سائٹ، بلاگ یا فیشن پر تحریر لکھ سکتے ہیں۔

’سپریڈ شیٹس، ایم ایس ورڈ یا آفس سے متعلق کوئی کام، بنیادی گرافک ڈیزائنگ یا سوشل میڈیا پوسٹ بنانے کا کام اس وقت فری لانسنگ میں کافی چل رہا ہے۔
اس وقت فری لانسنگ کی ڈیمانڈ جن شعبوں میں ہیں ان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ایفلیٹ مارکیٹنگ آ جاتی ہیں۔ ’

سافٹ ویئر اور ایپ بنانے کے کام کی دنیا بھر میں کافی مانگ ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے آپ اس قسم کے ہنر سیکھ سکتے ہیں تاکہ آپ کو نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے آپ کے پاس ایک متبادل ذریعہ آمدن موجود ہو۔

فری لانسرز کس طرح پیسے کماتے ہیں؟
’کمپیوٹرز کی مدد سے آپ ایسی صلاحیتیں سیکھ سکتے ہیں جن کی بدولت اب یہ ضروری نہیں کہ آپ کسی ایک کمپنی یا ملک میں کام کریں۔‘

’ان چند سکلز میں گرافک ڈیزائن، ویب سائٹ بنانا، سرچ انجن اوپٹیمائزیشن ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا، ای کامرس اور تصانیف لکھنا شامل ہے .

  اس نوعیت کے بنیادی ہنر سیکھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں کیونکہ ’فری لانسنگ کے لیے کچھ ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں آپ اپنا اکاؤنٹ بنا کر کام ڈھونڈ سکتے ہیں۔‘

  آپ فیور ( Fiverr) اور اپ ورک ( Upwork) سمیت ایسی کئی ویب سائٹس پر کام تلاش کرسکتے ہیں۔ یہاں اپنی پروفائل بنانے کے بعد لوگوں کی جانب سے فراہم کردہ ضروریات پر پورا اترنا ہوتا ہے۔

کام مکمل ہونے پر یہ ویب سائٹس کام دینے والے سے پیسے وصول کرتی ہے، اپنی کٹوتی کرتی ہے اور آپ کو پیسے ادا کر دیتی ہیں۔ لیکن بعض لوگ اعتماد بحال ہونے پر تیسرے فریق کو شامل نہ کرتے ہوئے باہمی سطح پر لین دین کر لیتے ہیں۔

فری لانسنگ میں کتنے پیسے کمائے جا سکتے ہیں؟
، اس کا انحصارآپ کی صلاحیت، ہنر مندی، کام کی نوعیت اور وقت کے دورانیے پر ہوتا ہے۔

جب کام کے عوض پیسے ڈالرز میں ملتے ہیں تو اس کی قدر کافی زیادہ ہوتی ہے۔‘

’فری لانسنگ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ روپے میں نہیں بلکہ ڈالر میں پیسے کماتے ہیں۔۔۔ جب لوگ باہر سے پیسے کماتے ہیں تو اس سے انفرادی اور ملکی فائدہ ہوتا ہے۔'

جنوبی ایشیا میں نوکریوں کی کمی ہے اور انٹرنیٹ پر فری لانسنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا طریقہ ایک متبادل کے طور پر نوجوانوں کے لیے موجود ہے۔  بعض لوگوں نے فری لانسنگ کی مدد سے اپنی خود کی کمپنیاں قائم کر لی ہیں۔ ’مختلف ویب سائٹس پر ایک کام کے لیے چند ڈالرز سے ریٹ بڑھتا بڑھتا ہزاروں ڈالرز تک بھی جا سکتا ہے۔’

لیکن کیا انٹرنیٹ پر پیسے کمانا اتنا آسان ہے؟
جنوبی ایشیاء سمیت دنیا کے  کئی ممالک میں لوگ اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے انٹرنیٹ پر پیسے کمانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص فوراً اس میں کامیاب ہوجائے۔

تاہم آپ کو اپنی صلاحیتوں پر پورا یقین ہونا چائیے  جنوبی ایشیا میں ایسے باصلاحیت لوگ موجود ہیں جو یہاں بیٹھے بیٹھے اپنے ہنر اور کام سے باہر کی دنیا سے پیسے کما سکتے ہیں۔‘

جنوبی ایشیا کے لوگ اپنے خطے کے علاوہ پوری دنیا کے فری لانسرز سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت پر معیاری کام کریں تاکہ اپنی اچھی پروفائل بنا سکیں۔

’اچھے فری لانسر کے اندر صلاحیتیں ہونے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہ سب سے منفرد کام پیش کریں اور وقت کی پابندی کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انٹرنیٹ پر آپ کی پروفائل مضبوط ہو جائے گی اور مختلف کلائنٹس آپ سے بار بار کام لیں گی جو کہ پیسے کمانے کا ایک مستقل ذریعہ بن جائے گا۔‘

بیرون ممالک سے پیسوں کی ادائیگی کے بہت سے زرائعے ہیں سب سے بڑا زریعہ اس میں پے پال ہے آپ آن لائن بینک اکاؤنٹ میں بھی پیسے منگوا سکتے ہیں اسکے علاوہ اور بھی بہت سے متبادل ہیں....

Tuesday, 1 October 2019

پردے والی لڑکی سے نکاح کرو

✒مثالی تحریر✒

🍁پردے والی لڑکی 🍁

پردے والی لڑکیوں سے نکاح کرو، شرم و حیا والی لڑکیوں سے نکاح کرو، غریب لڑکیوں سے نکاح کرو یہ خواتین تمہاری گھر کو جنت بنا دیں گی، میں کہتا ہوں ایسی عورت ایک مرد کے لیے دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے کہ ایسی لڑکیوں کی نا خواہشات زیادہ ہوتی ہیں نا اور نا ہی یہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتی ہیں، انکی مکمل زندگی انکے والدین سے شروع ہوتی یے اور مجازی خدا پر ختم ہوتی ہے۔ کسی پینٹ شرٹ والی کی طرف نا چلے جانا کہ وہ بہت خوبصورت ہے، کسی بے پردہ عورت سے نکاح نا کرلینا کہ اسکی طرف دل کھنچا چلا جاتا یے، کسی بد تمیذ لڑکی کی طرف نا چلے جانا کہ زندگی خوبصورت گذرے گی، کسی بد اخلاق لڑکی کی طرف مت چلے جانا کہ تم زندگی کو خوشگوار سمجھنے لگو، ان لڑکیوں کے اندر خدا کا خوف نہیں ہوتا یہ تمہاری نافرمان قرار پایئں گی، یہ لڑکیاں اپنے والدین کی عزت نہیں کرتی تمہارے والدین اور تمہاری عزت کو پیروں میں رکھے گی، انکے نذدیک حیا شرم صرف کتابی باتیں ہیں، انکے نذدیک ادب و اخلاق پرانی باتیں ہیں، انکے نذدیک عورت کی آزادی سب سے زیادہ اہم ہے، یہ پردے کو جہالت سمجھتی ہیں، پردہ والی خواتین کو غریب اور حقارت بھری نظروں سے دیکھتی ہیں یہ اسلامی احکامات کا۔مزاق اڑاتی ہیں، یہ بواۓ فرنڈ گرل فرنڈ کلچر کو درست مانتی ہیں، انکا کتابوں سے علمی گفتگو سے بذرگوں کی محفلوں سے دل گھبراتا ہے، کالج کینٹین، ریسٹورنٹ اور پارکس وغیرہ انکی پسندیدہ جگہیں ہیں، تم ان سے نکاح کرکے زندگی خراب نا کرلینا، ازدواجی سکون برباد نا کرلینا، تم غریب لڑکیوں کی طرف آؤ، تم ایمان والی لڑکیوں کی طرف آؤ، یہ شاید زیادہ جہیز نہیں لاسکتی، یہ شاید عمدہ فرنیچر نہیں لاسکتی، لیکن یہ حیا اور شرم لیکر آۓ گی، یہ ادب و آداب لیکر آۓ گی، یہ خوب سیرت و اخلاق لیکر آۓ گی، یہ تمہیں گھر میں بادشاہ بنا کر رکھے گی، یہ تمہیں دل و جان سے مجازی خدا مانے گی تمہارے حقوق ادا کرے گی، یہ تمہاری ایک تکلیف پر آنسو بہا دے گی، تمہین بے قرار🍁 دیکھ کر وہ بے قرار ہوجاے گی۔ یہ تمہارے تھوڑے دیۓ پر راضی ہوجاۓ گی، تمہاری لائ ہوئ چیزوں میں نقص نا نکالے گی، تمہاری عزت کو اپنی عزت سمجھے گی، تمہارے والدین کو اپنے والدین سمجھے گی، تمہاری اولاد کی اعلی پرورش کرے گی انہیں حسن اخلاق سکھاۓ گی، یہی عورتیں اللہ کی طرف سے نعمت ہیں مگر افسوس کہ ایسی لڑکیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے گھروں میں کنواری بیٹھی ہیں، یہ غریب مذدور کی بیٹیاں دنیا کی حوریں ہیں، یہ رسول اللہﷺ کی بیٹیاں ہیں، ان سے نکاح کرو گھر کو جنت بناؤ،
۔۔۔۔۔۔🍁🍁🍁🍁🍁🍁
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🍁🍁🍁🍁🍁
جہیز کی لالچ میں اپنی زندگی برباد مت کرلینا۔ 🍁🍁🍁

Thursday, 26 September 2019

بیٹی کے لئیے نصیحت

پوچھا گیا کہ بیٹی جب بڑی ہونے لگے تو اس کو بلوغت کے حوالے سے کیا بتایا جائے، کتنا بتایا جائے، اور کیسے بتایا جائے؟ اور بتایا بھی جائے یا نہیں؟۔ میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس موضوع پر بھی قلم کشائی کروں گی، لیکن بات یہ ہے کہ بیٹیوں کی مائیں اس سلسلے میں گائیڈ لائن چاہتی ہیں۔ میری نہ بہن ہے، نہ بیٹی۔۔ اور پبلک فورم پر ایسی بات کرتے کچھ فطری حجاب بھی مانع ٓاتا ہے۔۔۔ پھر بھی لکھ رہی ہوں کیونکہ مائیں اس سلسلے میں رہنمائی چاہتی ہیں۔

بچیاں جب بڑی ہونے لگیں تو ماں یا بڑی بہن کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بچی کو آگاہ کریں۔ خود اس لیے کہ اگر آپ نہیں بتائیں گی، تو شاید کوئی سہیلی بتائے گی۔ اس کی ہم عمر بچی اس کو اپنا تجربہ ہی بتائے گی، جس سے عین ممکن ہے کہ آپ کی بچی کچھ ڈر جائے۔ بہتر ہو کہ بچی کو ڈرائے بغیر اسکو بتایا جائے کہ لڑکی بالغ ہونے کی نشانی کیا ہے۔ اسکو کہیں کہ یہ دن تو سیلیبریشن کا دن ہو گا کہ میری بیٹی ما شاء اللہ اب بڑی ہو گئی ہے۔ ہم کیلنڈر پر اس تاریخ پر سٹار بنائیں گے (اس سے اگلے ماہ کی تاریخ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو گی)، کیک بنائیں گے،آپ چاہیں تو اکیلے واک پر جائیں گے۔ (ٹرانسپیرنٹ نیل پالش اور لپ گلاز کا تحفہ بھی دیا جا سکتا ہے "بڑے" ہونے کا سیلیبریٹ کرنے کے لئے) تھوڑی discomfort کے لئے بھی بیٹی کو تیار کریں کہ کمر، پیٹ، یا ٹانگوں میں ذرا تکلیف ہو گی تو اس کے لئے گرم پانی کی بوتل سے ٹکور کی جا سکتی ہے، دارچینی والا قہوہ، ہلدی دودھ، یا سوپ پیا جا سکتا ہے، اور ہلکی پھلکی واک سے بھی درد میں کمی ٓاتی ہے۔ یہیں انہیں یہ بھی بتائیں کہ سائیکل شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے ہی شاید discomfort شروع ہو جائے، یا سفید سی رطوبت خارج ہو۔ یہ نارمل ہے۔

اگر ماما/آپی پاس نہ ہوں تو کیا کرنا ہے؟ اگر اس وقت سکول میں ہوں تو گھبرانا نہیں ہے۔ ٹیچر سے علیحدگی میں بات کر لیں۔ اگر بالفرض اپنی کسی سہیلی کے گھر ہوں تو اس کی امی سے بات کر لیں۔ کہیں باہر ہوں جیسے ریسٹورنٹ وغیرہ تو باتھ روم میں کافی سارا ٹشو لے کر اسکو فولڈ کرتی جائیں تا کہ ایمرجینسی والا وقت ٹل جائے۔ جب ذکر چھڑ ہی گیا ہے توبچی کے ساتھ مل کر گھر میں موجود اشیاء سے ایک چھوٹا سا پرس/والٹ بنا لیں جس میں ضرورت کی چیزیں رکھ کر وہ سکول بیگ میں رکھ لیں۔

یہ بھی سمجھانا پڑے گا کہ اب چونکہ وہ بڑی ہو جائیں گی، تو ذمہ دار بھی ہونا پڑے گا۔ ویسے بھی ماما کے لئے ممکن نہیں کہ اس سلسلے میں وہ ان پر چیک رکھیں۔ صفائی کو ہمارے دین میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ایک سمجھدار لڑکی اپنی ہائیجین کا بہت خیال رکھتی ہے۔ اسلئے بہت زیادہ دیر ایک ہی نیپکن نہیں رکھنا بلکہ حسبِ ضرورت تبدیل کرنا ہے، اور اسکو احتیاط سے ٹشو میں لپیٹ کر باسکٹ میں ڈسپوز ٓاف کرنا ہے کہ گھر کے مردوں کی نگاہ نہ پڑے۔۔۔ بہتر ہو کہ پھینکنے سے پہلے اس پر کافی سارا پانی بہا دیا جائے اور پھر لپیٹ کر پھینک دیں۔ کراہیت محسوس ہو تو دستانے پہن لیں۔ جسمانی صفائی کے لئے میرے خیال میں ویکسنگ بہترین ہے۔ کیمسٹ سے numbing cream ملتی ہے۔ جس جگہ لگائیں، وہ حصہ سن ہو جاتا ہے۔ جب تک جلد عادی نہ ہو جائے، یہ کریم لگا کر ویکسنگ کی عادت شروع سے ہی ڈالی جائے۔

بلوغت کے ساتھ آنے والی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں ٓاگاہ کرنا بھی ضروری ہے اور پھر یہ تاکید کہ دوپٹہ اچھی طرح پھیلا کر لینا شروع کرنا ہے۔ کبھی ماموں کے ساتھ لٹکنا، کبھی چاچو کی گود میں بیٹھنا، لڑکے کزنز کے ساتھ زیادہ بےتکلفی۔۔۔ اس کے بارے میں محتاط رہنا ہے۔ نئی جسمانی ساخت کے اعتبار سے موزوں انڈر گارمنٹس کا بھی اہتمام کیا جائے اور جاذب نرم کاٹن کی چیزیں لی جائیں (بنیان والا کپڑا) اور رات کے وقت ہر قید سے آزاد ہو کر کھلے ڈھیلے کپڑوں میں سونے کی عادت ڈالیں۔ اور پھر بات صرف جسمانی تبدیلیوں ہی کی نہ ہو، ہارمونز کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے غصہ ٓانا، چڑچڑا پن، رونا ٓانا بھی نارمل ہے تو بچی کو یقین دلائیں کہ اس سفر میں ٓاپ اسکے ساتھ ہیں۔

انہی تبدیلیوں میں ایک چہرے پر دانے نکلنا بھی ہے۔ اسکی وجہ سے بچے اکثر احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ گھر کی بنی صاف غذا، ڈھیر پانی، اور صفائی کا خیال رکھنے کے باوجود بھی دانے نکل سکتے ہیں۔ بچے کو اسکے لیے تیار بھی رکھیں، یہ بھی بتائیں کہ آپکا دل اور اخلاق خوبصورت ہونا زیادہ اہم ہے، اور ساتھ ہی اگر ضرورت سمجھیں تو dermatologist کو دکھا لیں۔

بچیاں اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ موازنہ کرتی ہیں اور بعض اوقات پریشان ہو جاتی ہیں۔ انہیں سمجھائیں کہ تین سے لے کر سات دن تک جو بھی دورانیہ ہے، وہ ٹھیک ہے۔ اسی طرح بہاؤ کم یا زیادہ ہونا بھی، اور ایک سائیکل سے دوسرے سائیکل کا درمیانی وقفہ بھی مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہے۔

سائیکل ختم ہونے پر طہارت حاصل کرنے کے بارے میں تفصیل سے ٓاگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ دل میں پاکی کی نیت کر کے مسنون طریقے پر وضو کریں۔ پھر سر اچھے طریقے سے دھو کر بدن پر دائیں طرف اور پھر بائیں طرف پانی بہائیں اور ملیں۔ نیل پالش وغیرہ لگائی ہو تو اتار دیں تا کہ جسم کا کوئی عضو گیلا ہونے سے رہ نہ جائے۔

یہ بھی بتایا جائے کہ طہارت حاصل کرنے تک نماز کی مکمل چھٹی ہے اور اسکی قضا بھی نہیں پڑھنی، قرآن کو بھی نہیں چھونا اور پڑھنا، ہاں صبح شام کے اذکار کر لیے جائیں۔ روزے بھی نہیں رکھنے کیونکہ اللہ تعالی ہمیں کمزور نہیں کرنا چاہتے تو اچھا ہیلتھی کھانا اور خوب پانی پیتے رہنا ہے۔ یہ ہے اللہ کی محبت اسکی مخلوق سے! روزوں کی قضا بعد میں پوری کر لی جائے ۔

پوری بات بتانے کے بعد اسکو ایک نرم گرم سی جپھی ڈالیں اور بتائیں کہ ٓاپ بہت خوش ہیں اور انتظار کر رہی ہیں کہ کب مل کر سیلیبریٹ کریں گی ، اور پھر ماما بیٹی کی اپنی سیکرٹ باتیں ہونگی۔ مل کر سب عبادات ہونگی۔ خوب مزے ہونگے! اسکے سامنے بار بار یہ نہ کہیں کہ ہائے، ہماری بچی ساری عمر کے لئے پھنس گئی اس مصیبت میں۔ اسکے دل میں اچھے خیال ڈالیں اور یقین دہانی کروائیں کہ ٓاپ ہر حال میں اسکے ساتھ ہیں۔

Monday, 23 September 2019

Shangrilla Resort

This place is quite capable of leaving one spell bound. Green, serene and beautiful ❤

Shangrilla resort (panoramic view)
📷 Haroon Arshad 

Saturday, 21 September 2019

Sat Sar Mala Lakes'. Kaghan valley.

'Sat Sar Mala Lakes'. Kaghan valley.
📷 Haroon Arshad

Trekking for these 7 lakes (in close proximity) starts from Besal / Lulusar.

Image taken on : 03.09.2019

Zafar Park Mansehra

Zafar Park Mansehra
Mazeed Janne ke lye Contact Karein

Friday, 20 September 2019

راما لیک۔۔۔۔۔

راما لیک۔۔۔۔۔۔
آپ جائیں ناران وہاں سے بابو سر پاس کراس کرتے ہوئے سیدھا چلے جائیں چلاس کی طرف مگر چلاس شہر میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی وہاں شب گزاری کا سوچیں کیونکہ ایک تو وہاں کی گرمی آپ کے ہوش اڑا دے گی اور دوسرے چھوٹی موٹی چیزوں کی چوری چکاری کا بھی ڈر رہتا ہے جیسا کہ ہماری سن گلاسز جو خاص طور پر ہماری کم نظری کو مدنظر رکھتے ہوئے سپیشل آرڈر پر بنوائی گئیں تھیں چلاس میں ہوٹل کے باہر بائیکس پر لٹکی ہوئی تھیں کہ کوئی چور اچکا اچکا کر لے گیا۔ خیر بات ہو رہی تھی کہ اپ چلاس شہر میں داخل نہ ہوں اور سیدھا سیدھا شاہراہِ ریشم کا راستہ ناپیں اور استور جا پہنچیں۔ اگر وقت کی کمی آڑے آئے تو پھر استور میں شب بسری کا اہتمام کریں۔وہاں بھی چوری کا ڈر لاحق رہے گا کیونکہ ہمارے یار غار خالد صحرائی اور ہماری خود کی بائیک کا ایک ایک شیشہ یعنی بیک مرر اتار کر اس الو کے پٹھے چور نے اپنا ایک سیٹ برابر کر ہی لیا تھا۔ ایسے ہوٹل کا انتخاب کریں جسکی پارکنگ کافی سے زیادہ محفوظ ہو۔ اگر وقت کافی سارا ہو آپکے پاس تو سیدھا سیدھا چلے جائیں راما میڈوز کی طرف۔ وہاں رات گزاریں اور صبح اگر آپکی ہڈیوں کا گودا ساتھ دے تو پیدل راما جھیل کی طرف مارچ کریں ورنہ جیپ کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے۔ زیر نظر تصویر راما لیک کی ہی ہے جہاں سے آپ نانگا پربت کو اپنی آنکھوں کے بتیس سو میگا پکسل کیمرے میں نہ صرف محفوظ کر سکتے ہیں بلکہ بوقت ضرورت یادوں کی سیف سے باآسانی نکال کر لطف اندوز بھی ہو سکتے ہیں۔

  کھیتوں اور باغات سے گھرے ایک پُرسکون گاؤں میں آموس نام کا ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ اگرچہ گاؤں اس کا گھر تھا، لیکن اموس کو شہر کو دیکھنے کی...